سورۂ مریم ہمیں صبر، توکل اور ایمان پر ثابت قدمی کا درس دیتی ہے
جماعت اسلامی ہند عثمان پور، شاستری پارک یونٹ کے تحت درسِ قرآن کا انعقاد، عبدالغفار صاحب نے سورۂ مریم کے پس منظر پر روشنی ڈالی

دہلی۔ جماعت اسلامی ہند، عثمان پور شاستری پارک یونٹ کے تحت درسِ قرآن کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں عبدالغفار صاحب نے سورۂ مریم کا درس پیش کیا۔ انہوں نے سورۂ مریم کے شانِ نزول، اس کے تاریخی پس منظر اور اس میں پوشیدہ اہم پیغامات پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ سورۂ مریم ایسے حالات میں نازل ہوئی جب کفارِ مکہ نے اہلِ ایمان کا جینا دوبھر کر دیا تھا اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو پہلی ہجرت حبشہ کی جانب کرنے کی اجازت دی۔ چنانچہ تقریباً بارہ، تیرہ صحابۂ کرامؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔
عبدالغفار صدیقی صاحب نے بتایا کہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی اگرچہ عیسائی تھا، لیکن نہایت انصاف پسند اور عادل حکمران تھا۔ جب کفارِ مکہ نے اپنے نمائندے حبشہ بھیجے اور نجاشی سے مطالبہ کیا کہ مکہ سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کو واپس کر دیا جائے، تو نجاشی نے یک طرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے مہاجرینِ حبشہ کو اپنے دربار میں طلب کیا اور ان کی بات سننے کا فیصلہ کیا۔
حضرت جعفرؓ کی مؤثر تقریر اور سورۂ مریم کی تلاوت نے نجاشی کو متاثر کر دیا
درس کے دوران عبدالغفار صدیقی صاحب نے بتایا کہ نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیارؓ نے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے نہایت مؤثر تقریر کی۔ انہوں نے اسلام سے پہلے عرب کے حالات، مسلمانوں کی زندگی میں آنے والی تبدیلی اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ذکر کیا۔ اسی موقع پر انہوں نے سورۂ مریم کی آیات کی تلاوت کی، جن میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ہدایات بیان کی گئی ہیں۔
سورۂ مریم کی آیات سن کر نجاشی اس قدر متاثر ہوا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس نے قرآنِ مجید کے پیغام کی صداقت کو محسوس کرتے ہوئے حق کو تسلیم کیا اور مہاجرینِ حبشہ کو کفارِ مکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
عبدالغفار صدیقی صاحب نے کہا کہ سورۂ مریم کے تاریخی پس منظر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے لیے مشکل ترین حالات میں بھی راستے پیدا فرمائے۔ ہجرت کے لیے حبشہ کا انتخاب بھی ایک حکمت پر مبنی تھا، جہاں کا بادشاہ عیسائی ہونے کے باوجود انصاف پسند تھا۔ اسی مناسبت سے حضرت جعفرؓ نے نجاشی کے سامنے سورۂ مریم کی تلاوت کی، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سورۂ مریم ہمیں ایمان پر ثابت قدم رہنے، آزمائش کے حالات میں صبر کرنے، اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھنے اور حق بات کو حکمت و بصیرت کے ساتھ پیش کرنے کا درس دیتی ہے۔ حضرت جعفرؓ کی تقریر اور نجاشی کے سامنے سورۂ مریم کی تلاوت اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ قرآنِ مجید کا پیغام انصاف پسند دلوں کو متاثر کرتا ہے۔
Share this content:



Post Comment