برکس اجلاس میں بنگلہ دیش کی خالی کرسی! کیا ڈھاکہ نے ایک اہم سفارتی موقع گنوا دیا؟

H20260913216416-1-1024x669 برکس اجلاس میں بنگلہ دیش کی خالی کرسی! کیا ڈھاکہ نے ایک اہم سفارتی موقع گنوا دیا؟
PM’s opening remarks at BRICS Summit Session on ‘Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability: Shaping the Future for Inclusive Global Growth’ at Bharat Mandapam, in New Delhi on September 13, 2026.

ڈھاکہ ۔14؍ ستمبر۔ ایم این این۔ نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے دوران بنگلہ دیش کی عدم موجودگی نے ملک کی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک ترجیحات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ نگار لبنیٰ فردوسی کے مطابق بنگلہ دیش کو کسی ’’انڈیا فرسٹ‘‘، ’’چائنا فرسٹ‘‘، ’’روس فرسٹ‘‘ یا ’’ویسٹ فرسٹ‘‘ پالیسی کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسی ’’بنگلہ دیش فرسٹ‘‘ حکمت عملی درکار ہے جو ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ سفارتی اور اقتصادی دروازے کھلے رکھے۔ وزیراعظم طارق رحمان کو اجلاس میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے بجائے بمسٹیک کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس سفارتی فرق کو اہم قرار دیا، لیکن تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسے بنگلہ دیش کی حیثیت گھٹانے کے بجائے اضافی سفارتی سرمایہ سمجھا جاسکتا تھا۔ بمسٹیک کے سربراہ کی حیثیت سے بنگلہ دیش کو ایک ہی جگہ بھارت، چین، روس، برازیل، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی اہم طاقتوں کے ساتھ براہ راست رابطے کا موقع مل سکتا تھا۔ ایسے وقت میں جب مختلف برکس ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود ان کے رہنما ایک میز پر بیٹھ رہے ہیں، ڈھاکہ کی غیر موجودگی کو ایک ضائع شدہ موقع کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق توسیع شدہ برکس دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور قوت خرید کی بنیاد پر عالمی پیداوار کے لگ بھگ 40 فیصد کی نمائندگی کرتا ہے۔ نئی دہلی اجلاس میں سپلائی چین، اختراع، کاروبار اور سرحد پار اقتصادی تعاون جیسے عملی موضوعات بھی زیر بحث ہیں، جو بنگلہ دیش جیسے تیزی سے ترقی کرتے ملک کے لیے براہ راست اہمیت رکھتے ہیں۔ مضمون کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اسٹریٹجک خودمختاری کا مطلب اہم عالمی فورمز سے دور رہنا نہیں بلکہ سب کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں اختلافات اپنی جگہ، لیکن نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کو بھارت کے حق یا مخالفت کے سوال تک محدود کرنا بنگلہ دیش کے وسیع تر قومی مفادات کے لیے فائدہ مند نہیں۔اس نقطۂ نظر کے مطابق بنگلہ دیش کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ بھارت، چین، روس، مغرب اور دیگر طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات استوار کرے اور ہر ایسے فورم سے فائدہ اٹھائے جہاں اس کے اقتصادی اور سفارتی مفادات آگے بڑھ سکتے ہوں۔ نئی دہلی میں خالی رہنے والی کرسی اسی لیے محض ایک غیر حاضری نہیں بلکہ ایک ممکنہ سفارتی موقع کے ضائع ہونے کی علامت بن گئی ہے۔

Share this content:

You May Have Missed