بھارت کی برکس صدارت میں 50 سے زائد اہم اقدامات، عملی تعاون کا وسیع ایجنڈا تیار

INDIA-BRICS بھارت کی برکس صدارت میں 50 سے زائد اہم اقدامات، عملی تعاون کا وسیع ایجنڈا تیار

نئی دہلی۔14؍ ستمبر۔ ایم این این۔  بھارت کی 2026 کی برکس صدارت کے دوران 50 سے زائد نئے اقدامات اور عملی منصوبے سامنے آئے ہیں، جنہیں لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کے چار بنیادی ستونوں کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد برکس کو محض سیاسی مکالمے کے فورم سے آگے بڑھا کر عملی اور عوامی مفاد پر مبنی تعاون کا مؤثر پلیٹ فارم بنانا ہے۔ بھارت کی صدارت کے دوران صحت، زراعت، توانائی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپس، سپلائی چین، تجارت، مالیاتی تعاون، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں نئی تجاویز کو آگے بڑھایا گیا۔ نئی دہلی اعلامیے میں رکن ممالک نے بھارت کی صدارت میں ہونے والی پیش رفت کو عملی، جامع، ترقی پر مبنی اور عوامی ضروریات سے منسلک قرار دیتے ہوئے سراہا۔ بھارت نے اپنی صدارت کے دوران ملک کے 30 شہروں میں 400 سے زیادہ اجلاس اور سرگرمیاں منعقد کیں، جن میں وزرا، پارلیمنٹیرینز، سرکاری حکام، ماہرین، کاروباری شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ برکس رہنماؤں نے کہا کہ ان سرگرمیوں نے تنظیم کے اندر اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اختراع اور ٹیکنالوجی کو بھارتی ایجنڈے میں خاص اہمیت دی گئی۔ اس میں اسٹارٹ اپ تعاون، جدید ٹیکنالوجی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، اسمارٹ گرڈز اور سپلائی چین کو زیادہ مضبوط بنانے جیسے منصوبے شامل رہے۔ روسی سفیر ڈینس علیپوف نے بھی بھارت کی برکس صدارت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے ان عملی اقدامات کو خاص طور پر سراہا۔

H20260913216417-1-1024x822 بھارت کی برکس صدارت میں 50 سے زائد اہم اقدامات، عملی تعاون کا وسیع ایجنڈا تیار
PM’s opening remarks at BRICS Summit Session on ‘Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability: Shaping the Future for Inclusive Global Growth’ at Bharat Mandapam, in New Delhi on September 13, 2026.

صحت کے شعبے میں بھارت نے برکس نیٹ ورک آف سینٹرز آف ایکسی لینس آن مینٹل  ویل نیسسمیت نئے ادارہ جاتی نظام آگے بڑھائے، جبکہ صحت عامہ کے قومی اداروں کے درمیان تعاون اور بیماریوں کے سماجی اسباب سے نمٹنے کے لیے بھی مشترکہ فریم ورک تیار کیے گئے۔ بھارت کی کوشش یہ رہی کہ توسیع شدہ برکس کو نظریاتی یا مغرب مخالف اتحاد بنانے کے بجائے گلوبل ساؤتھ کے لیے عملی نتائج فراہم کرنے والے پلیٹ فارم کے طور پر مضبوط کیا جائے۔ نئی دہلی اعلامیے میں رکن ممالک نے بھارت کی میزبانی اور 2026 کی صدارت کی پیش رفت کی باقاعدہ تعریف کرتے ہوئے اسے زیادہ منصفانہ عالمی نظام، پائیدار ترقی اور جامع اقتصادی نمو کی سمت اہم قدم قرار دیا۔

Share this content:

You May Have Missed