مساجد کے ائمہ کرام نے مدارس اسلامیہ کنونشن کو کامیاب بنانے کیلئے حوصلہ مندانہ عزم کا اظہار کیا
امارتِ شرعیہ میں منعقدہ خصوصی نشست میں ضلع پٹنہ کے ائمۂ کرام کے تاثرات

)پریس ریلیز : پھلواری شریف ) ملک اور قوم کی تعمیر و ترقی میں دینی مدارس کا کردار نہایت اہم رہا ہے، وطنِ عزیز کو برطانوی تسلط سے آزاد کرانے میں یہاں کے تربیت یافتہ، دردمند علما اور مشائخ کی قربانیوں کی ایک روشن تاریخ رہی ہے، مگر افسوس کہ اس وقت ملک کی بعض فسطائی طاقتیں مدارس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے میں مصروف ہیں، اگر ہم سب نے بروقت اس کا تدارک نہیں کیا تو مستقبل میں مدارس کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے، اسی مقصد کے تحت امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہ کی قیادت میں 11 /نومبر 2026ء کو پٹنہ کے باپو سبھا گار آڈیٹوریم، نزد گاندھی میدان میں ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کےجملہ مدارس کے ذمہ داران، متعدد اربابِ فضل و کمال، علما، دانشوران اور ماہرینِ تعلیم شرکت فرمائیں گے، ان شاء اللہ آپ حضرات میزبان کی حیثیت سے آنے والے مہمانوں کا پُرتپاک استقبال فرمائیں گے،ان خیالات کا اظہار امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے 20/ اکتوبر کو امارتِ شرعیہ کے میٹنگ ہال میں ضلع پٹنہ کے ائمۂ مساجد کی ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس نشست میں شہر پٹنہ واطراف کےائمہ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت فرمائی ، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کہا کہ اس اجلاس کے تعلق سے حضرت امیرِ شریعت مدظلہ العالی اور ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب برابر فکر مند ہیں اور اسے کامیاب و مؤثر بنانے کے لیے مستقل لائحۂ عمل مرتب کر رہے ہیں۔،انہوں نے مزید کہا کہ ائمۂ کرام مسجد کے منبر و محراب سے جو پیغام دیتے ہیں، اس میں قوتِ تاثیر ہوتی ہے، اس لیے آپ حضرات مدارس و مساجد کی عظمت و اہمیت سے عوام کو روشناس کرائیں، ان کے خلاف چلائی جانے والی تحریکات سے واقف کرائیں اور اللہ تعالیٰ سے مدارس، مکاتب، مساجد اور خانقاہوں کے تحفظ و بقا کی دعا بھی کرتے رہیں۔

دارالقضا امارتِ شرعیہ کے صدر قاضیِ شریعت مولانا مفتی محمد انظارعالم قاسمی صاحب نے کہا کہ مدارس و مساجد شعائرِ اسلام ہیں، ان پر حملہ کرنا گویا دین و شریعت پر حملہ کرنا ہے، اس لیے ہمیں ملی وحدت کے ساتھ اپنے شعائر کی حفاظت کرنی ہے اور مدارس اسلامیہ کنونشن کو ہر اعتبار سے کامیاب بنانا ہے، جو ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے ،نائب ناظم امارتِ شرعیہ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے سرکولراور نوٹس کے مشمولات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف مدارس کی چہار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ مساجد کے منبر و محراب بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں، اس لیے ہم سب کو مل جل کر منعقد ہونے والے اس کنونشن کو کامیاب بنانا ہے۔مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی صاحب نے کہا کہ برسراقتدار جماعت اس ملک میں مدارس کے وجود کو ختم کرنے کی نہایت ہی خطرنا ک راہ اختیار کرنے پر تلی ہوئی ہے ، جس سے ہم سب کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔نائب قاضیِ شریعت مولانا مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے کہا کہ مدارس و مساجد کی حفاظت کرنا ہمارا ملی فریضہ ہے، اس لیے 11 /نومبر کے کنونشن کو کامیاب بنانا بھی ضروری ہے۔معاون ناظم مولانا رضوان احمد ندوی صاحب نے کہا کہ جس طرح انسانی جسم میں دل مرکز کی حیثیت رکھتا ہے،اسی طرح ائمۂ کرام مسلم معاشرے کے لیے روح کی مانند ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ حضرات کو جس عظیم منصب سے سرفراز فرمایا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ آپ اس کنونشن کی کامیابی کے لیے جدوجہد کریں، آپ کی کوششوں سے ان شاء اللہ 11 نومبر کا یہ اجلاس کامیاب ہوگا،مولانا عظیم الدین رحمانی، امام و خطیب کولڈ اسٹور مسجد، خواجہ پورہ نے کہا کہ اکابرِ امارتِ شرعیہ کی طرف سے جو ہدایات ملیں گی، ہم شانہ بشانہ ان پر عمل کریں گے اور پروگرام کو کامیاب بنائیں گے، مولانا گوہر امام قاسمی، امام و خطیب شاہ جنگی مسجد، پھلواری شریف نے کہا کہ ہماری طرف سے جو بھی تعاون ممکن ہوگا، ان شاء اللہ بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا، مولانا عبد القدوس قاسمی،،امام و خطیب ہارون نگر، پھلواری شریف نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کے اندر سے ایمان اور علمِ دین کے رشتے کو ختم کرنا چاہتی ہیں، ہم ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور ان شاء اللہ11 نومبر کے کنونشن کو کامیاب بنائیں گے۔مولانا مفتی اسعد قاسمی، امام و خطیب جامع مسجد، پٹنہ جنکشن نے کہا کہ وہ پٹنہ جنکشن پر آنے والے مہمانوں اور مندوبین کے قیام و ضیافت کا انتظام کریں گے اور اس کنونشن کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے، امارتِ شرعیہ کی دعوت پر تشریف لانے والے ائمۂ کرام نے اجتماعی طور پر اس کنونشن کو مؤثر، بامقصد اور کامیاب بنانے کا عہد و پیمان کیا،اس خصوصی نشست میں مولانا مبشر قاسمی جامع مسجد باڑھ؛ مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی آر کے نگر مسجد پھلواری شریف؛ مولانا شاہد ندوی فریزر روڈ جامع مسجد؛ مولانا ساجد رحمانی مسجد فیڈرل کالونی؛ مولانا دلشادمسجد گردنی باغ؛ مولانا امام الدین جامع مسجد ملی مسجد؛ مولانا سلیم الدین قاسمی ہارون نگر؛ مولانا محمد مفتی مفیدعالم قاسمی داؤدنگرمسجد؛ مولانا کلیم اللہ، جامع مسجد بہٹا؛ مولانا عظیم الدین جامع مسجد نہسہ، مولانا جابر حسین، الامین مسجد؛ مولانا معاذ صاحب؛ مولانا شمیم صاحب، جامع مسجد نیورا؛ مولانا ساجد امان اللہ، جامع مسجد عیسیٰ پور؛ مولانا تبریز قربان مسجد عیسیٰ پور؛ مولانا مصباح الرب، جامع مسجد کھگول؛ مولانا شاہد قاسمی، مریم مسجد، نیا ٹولہ، مولانا صابر رشید، جامع مسجد کربلا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیااور مفید مشورے دیے نیز کنونشن کے تعلق سے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی، معاون ناظم امارتِ شرعیہ بہار، جھارکھنڈ مولانا احمد حسین قاسمی صاحب نے ائمۂ مساجد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات کا تعاون ہمیشہ حاصل رہا ہے، ان شاء اللہ یہ کنونشن بھی آپ کے تعاون سے کامیاب ہوگا،واضح رہے کہ مدارس اسلامیہ کنونش کو تاریخی انداز میں کامیاب بنانے کیلئے مختلف جہتوں سے پرزور تیاریاں جاری ہیں ،اور ارباب مدارس کے لئے رہنمائے خطوط تیار کئے جارہے ہیں جو ہرطرح سے مفید ثابت ہوں گے

،ائمۂ کرام کی اس خصوصی نشست میں امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے قدیم رفیقِ کار اور آسنسول اسکول کے سابق صدر مدرس قاری محمد داؤد عرفانی صاحب کی اہلیہ اور مولانا صبغت اللہ صاحب، قاضیِ شریعت کٹک کی والدہ کے سانحۂ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا،قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے بتایا کہ مرحومہ کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے امارتِ شرعیہ کا ایک وفد، مولانا سہیل اختر قاسمی، نائب قاضیِ شریعت امارتِ شرعیہ اور قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارتِ شرعیہ پر مشتمل آسنسول گیا ہے، جہاں یہ حضرات نمازِ جنازہ میں شرکت کے ساتھ اہلِخانہ سے اظہارِ تعزیت بھی کریں گے،ناظم صاحب نے مرحومہ کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کی مخلصانہ درخواست کی، چنانچہ مجلس میں مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ مجلس کا آغاز مولانا مبشر قاسمی امام خطیب جامع مسجد باڑھ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور مولانا عظیم الدین رحمانی کی دعاء پر مجلس اختتام پزیر ہوئی ۔
Share this content:



Post Comment