مسجد الحرام کے معروف مؤذن شیخ ابراہیم المدنی 51 برس کی عمر میں انتقال کر گئے؛ عالمِ اسلام میں رنج و غم کی لہر
فجر کی اذان، پُرسوز تکبیرات اور مکبریہ سے ’تبلیغ‘ کے لیے پہچانے جانے والے مؤذن کے انتقال پر سوشل میڈیا پر خراجِ عقیدت، آخری اذان 11 ربیع الاول کو دی تھی

نئی دہلی
مسجد الحرام کے نامور مؤذن اور مکبریہ کے رکن شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی پیر کے روز (10 ربیع الآخر 1448ھ مطابق 21 ستمبر 2026ء) 51 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ اور عملے کی جانب سے ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی، جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حرمین شریفین کے امورِ دینیہ کے سربراہ کا اظہارِ تعزیت
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امورِ دینیہ کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے اپنی اور دونوں مقدس مساجد کے ائمہ، مؤذنین، اساتذہ اور عملے کی جانب سے شیخ ابراہیم عادل المدنی کی وفات پر دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی وسیع رحمت و مغفرت سے نوازے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور بیت اللہ کی خدمت اور اذان کے سلسلے میں ان کی مخلصانہ خدمات کو شرفِ قبولیت بخش کر لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
ابتدائی زندگی اور دینی تربیت
شیخ ابراہیم المدنی مدینہ منورہ میں ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ ان کے نانا قرآنِ مجید کے حافظ تھے، جن سے وہ بے حد متاثر تھے۔ انہوں نے محض 15 برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں اپنے محلے کی مسجد سے اذان دینے کی ابتدا کی اور کالج سے فراغت تک اپنے تین پڑوسیوں کے ساتھ باری باری یہ خدمت انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں مدینہ منورہ سے باہر تدریسی خدمات اور مصروفیات کی وجہ سے کچھ عرصے تک یہ سلسلہ منقطع رہا۔

مسجد الحرام تک کا سفر اور خدمات
شیخ ابراہیم المدنی نے اپنے شاندار سفر کے دوران مسجد نبوی میں بھی اذان دی اور بعد ازاں سال 1428ھ میں انہیں مسجد الحرام میں اذان دینے کی سعادت ملی، جہاں وہ تاحیات وابستہ رہے۔ وہ مسجد الحرام کے 24 بنیادی مؤذنین میں شامل تھے، جن میں سے روزانہ چھ مؤذنین پانچ وقت کی نمازوں اور فجر کی پہلی اذان کی ذمہ داریاں باری باری ادا کرتے ہیں۔
شیخ ابراہیم المدنی کو خاص طور پر فجر کی مسحور کن اذان اور عیدین کی تکبیرات کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ اذان کے ساتھ ساتھ انہوں نے مکبریہ سے ’تبلیغ‘ (یعنی نماز کے دوران امام کے پیچھے تکبیرات اور انتقالات کو نمازیوں تک پہنچانے) کا فریضہ بھی انتہائی مہارت اور باریک بینی کے ساتھ نبھایا۔
حرم مکی میں پہلی اذان کا وہ ناقابلِ فراموش احساس
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں شیخ المدنی نے مسجد الحرام میں اپنی پہلی اذان کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس عظیم ذمہ داری کے احساس اور ہیبت کا یہ عالم تھا کہ وہ اس سے پہلی رات سو بھی نہیں سکے تھے۔
جب انہوں نے پہلی بار اذان دیتے ہوئے کعبۃ اللہ کے گرد طواف کرنے والوں کو اپنی آواز سنتے دیکھا تو بے ساختہ آبدیدہ ہو گئے اور ان کے دل میں یہ خیال آیا: "میں کون ہوتا ہوں کہ اس مقدس اور پاکیزہ ترین مقام پر میری آواز گونجے؟”
مکی اور مدنی اسلوب کا حسین امتزاج
مدینہ منورہ میں پرورش پانے اور مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے کی بدولت، شیخ ابراہیم المدنی کے پاس دونوں متبرک شہروں کے اذان کے روایتی صوتی اسلوب کا نایاب تجربہ تھا۔ وہ اذان کو محض ایک پکار نہیں بلکہ حرمین شریفین کا صدیوں پر محیط ورثہ سمجھتے تھے اور دونوں اسکول آف تھاٹس (مکی اور مدنی انداز) کی خصوصیات و نزاکتوں سے بخوبی واقف تھے۔
آخری اذان اور سوشل میڈیا پر خراجِ عقیدت
اطلاعات کے مطابق شیخ ابراہیم المدنی نے مسجد الحرام میں اپنی زندگی کی آخری اذان 11 ربیع الاول 1448ھ کو دی تھی۔
ان کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے نام کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔ دنیا بھر کے صارفین اور زائرینِ حرم کی جانب سے ان کی فجر کی اذانوں، رقت آمیز تکبیرات اور مکبریہ سے کی گئی تبلیغ کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں اور ان کی مغفرت و بلندیِ درجات کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔
Share this content:



Post Comment