منٹو نے تقسیم سے متعلق بے مثال کہانیاں تخلیق کیں: قاضی عبیدالرحمن ہاشمی تقسیم وطن کا سب سے مؤثر اظہار پنجاب کے ادیبوں نے کیا : پروفیسر ارتضیٰ کریم

قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں’’تقسیم کی انسانی کہانیوں کی یاد میں‘‘ کے عنوان سے لیکچر کا انعقاد

WhatsApp-Image-2026-08-14-at-7.12.08-PM-1024x682 منٹو نے تقسیم سے متعلق بے مثال کہانیاں تخلیق کیں: قاضی عبیدالرحمن ہاشمی تقسیم وطن کا سب سے مؤثر اظہار پنجاب کے ادیبوں نے کیا : پروفیسر ارتضیٰ کریم

نئی دہلی:آج قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے صدر دفتر میں 80 ویں جشن یوم آزادی کی مناسبت سے ’’تقسیم کی انسانی کہانیوں کی یاد میں‘‘ کے عنوان سے ایک لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔‌ جس کی صدارت پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی(ممتاز پروفیسر و سابق صدر شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کی جب کہ بحیثیت مقرر پروفیسر ارتضی کریم (سابق ڈائرکٹرقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان و سابق صدر شعبہ اردو،ڈین فیکلٹی آف آرٹس دہلی یونیورسٹی)نےشرکت کی۔اس سے قبل ادارے کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ اردو ادب میں اس انسانی المیہ کا ذکر جس شدت سے کیا گیاہے شاید ہی کسی دوسری زبان میں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ یہ المناک داستان جس مرکز پر بطور خاص رقم ہو رہی تھی اس کی زبان اردو تھی اردو کے ادیبوں نے اس کا گہرا اثر لیا اور اس کی جزئیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے افسانے اور ناول لکھے ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقسیم کے بعد اس انسانی المیے کے واقعہ نے اردو فکشن کو نیا رخ عطا کیا۔

آج کے مقرر پروفیسر ارتضی کریم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے ادیبوں نے تقسیم کے انسانی المیے کو شدت سے محسوس کیا اور تقسیم کے درد کا مؤثر اظہار کیا،انھوں نے تقسیم کی المناکیوں کے ضمن میں منٹو کی کہانی ’’شہید ساز‘‘ کی قرأت بھی کی اور اس کو بنیاد بنا کر تقسیم کی مختلف جہات کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ان کہانیوں میں پوشیدہ سچائیوں کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی ضرورت ہے،جس سے تقسیم کے المیے سے متعلق بہت سی پرتیں کھلتی نظر آتی ہیں۔یہ کہانیاں ہمیں ہر دور کے انسانی رشتوں سے وابستہ کرتی ہیں اور انسانی بنیادوں پر اپنے احساسات و جذبات کو زندہ رکھنے کی طرف راغب بھی کرتی ہیں۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر قاضی عبید الرحمٰن ہاشمی نے تقسیم کے المیے پر روشنی ڈالتے ہوئے اردو فکشن پر اس کے اثرات پر گفتگو کی اور اس حوالے سے منٹو کی خدمات کو بھی واضح کیا۔انھوں نے کہا کہ تقسیم کے المیے پر منٹو نے جو کہانیاں لکھی ہیں وہ بے مثال ہیں۔ اخیر میں ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر) نے کلمات تشکر ادا کیے اورنظامت نایاب حسن نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر قطب الدین،سراج عظیم،مظفر غزالی،منور حسن کمال اور ڈاکٹر ابو ظہیر ربانی کے علاوہ قومی اردو کونسل کے اسسٹنٹ ڈائرکٹرز، ریسرچ افسران اور دیگر اراکین موجود رہے۔

Share this content:

You May Have Missed