بھارت کا سیمی کنڈکٹر شعبہ عالمی سرمایہ کاری کا نیا مرکز بننے لگا

نئی دہلی۔20؍ ستمبر۔ ایم این این۔ بھارت میں سیمی کنڈکٹر صنعت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے اور دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری اور شراکت داری میں نمایاں دلچسپی سامنے آ رہی ہے۔سیمی کون انڈیا 2026 کے دوسرے روز سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں 25 اہم اعلانات اور شراکت داریاں سامنے آئیں۔ ان میں چپ مینوفیکچرنگ، ڈیزائن، جدید پیکیجنگ، خصوصی کیمیکلز، لاجسٹکس، پاور الیکٹرانکس اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری شامل ہے۔ تقریب میں 600 سے زائد نمائش کنندگان شریک ہوئے، جن میں تقریباً 300 بین الاقوامی کمپنیاں شامل تھیں۔ جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، نیدرلینڈز، بیلجیم اور سویڈن سمیت متعدد ممالک کی کمپنیوں نے بھارت میں سیمی کنڈکٹر سرگرمیاں بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ بھارتی سیمی کنڈکٹر مشن نے چپ صنعت کی لاجسٹکس اور سپلائی چین مضبوط بنانے کے لیے نپون ایکسپریس کے ساتھ معاہدہ کیا، جبکہ ٹاٹا الیکٹرانکس نے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے انتہائی خالص گیسوں، کیمیکلز اور جدید مواد کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے کئی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا۔ ملک میں مقامی چپ ڈیزائن کی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے۔ ایک نیا مقامی سسٹم آن ماڈیول متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ چپ اسمبلی، ٹیسٹنگ اور جدید پیکیجنگ کے شعبوں میں بھی نئی شراکت داریاں قائم کی جا رہی ہیں۔ سیمی کون انڈیا 2026 میں 52 ممالک کے نمائندے، 400 سے زیادہ اعلیٰ عہدیدار اور 150 سے زائد مقررین شریک ہوئے۔ تقریب میں تقریباً 50 ہزار افراد کی شرکت متوقع تھی، جو بھارت کو عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں ایک بڑے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی بڑھتی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
Share this content:



Post Comment