پانچ روزہ ادبی سفر کا اختتام، ’نئے پرانے چراغ‘ نے چھوڑے یادگار نقوش

url3 پانچ روزہ ادبی سفر کا اختتام، ’نئے پرانے چراغ‘ نے چھوڑے یادگار نقوش

دہلی، یکم ستمبر:
 اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا آج آخری روز بھی مختلف علمی و ادبی سرگرمیوں پر مشتمل رہا۔ دن بھر منعقد ہونے والے اجلاسوں میں تنقیدی و تحقیقی گفتگو، تخلیقی پیشکش اور شعری نشستوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف نشستوں میں ریسرچ اسکالرز اور اہلِ قلم نے اپنے تحقیقی و تخلیقی کام پیش کیے، جبکہ ممتاز ادبا اور ماہرین نے ان پیشکشوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اہم علمی و ادبی نکات کی نشاندہی کی۔ آخری روز کی ان سرگرمیوں نے پانچ روزہ ادبی اجتماع کو مزید وقار، معنویت اور علمی وسعت عطا کی۔
آخری دن کا پہلا تنقیدی و تحقیقی اجلاس صبح 10 بجے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر معین الدین جینابڑے، پروفیسر خالد اشرف اور ڈاکٹر خالد علوی نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر یوسف رضا نے انجام دیے۔اجلاس کے دوران دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز نے اردو ادب کی مختلف اصناف اور متنوع موضوعات پر اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالے پیش کیے۔ ان ریسرچ اسکالرز میں جناب فردوس عالم نے’’اپنی تلاش میں ماضی کی بازگشت اور نئے عہد کی تشکیل‘‘، جناب محمد چاند رضا نے’’ ہائی وے پر کھڑا ا?دمی: ایک منتشر عہد کی داستان‘‘، جناب محمد سرتاج حسین نے’ ’ناول’ مہاماری‘ میں سیاسی نظام کی عکاسی‘‘، جناب عبدالماجد نے’احمد علی کی افسانہ نگاری: قید خانہ کے خصوصی حوالے سے‘‘، جناب شہباز قدیر چودھری نے’’ناول پوکے مان کی دنیا میں مشرف عالم ذوقی کا فکری زاویہ: ڈیجیٹل عہد اور بچوں کی نفسیات‘‘، جناب سیف الرحمٰن نے ’’ناول پدماوت کے کردار‘‘، جناب شہباز ریحان نے’’ٹاکی سنیما اور اردو فلم جرنلزم‘‘، جناب طفیل احمد نے’’احمد جمال پاشا کی انشائیہ نگاری‘‘، جناب ساجد انصاری نے’’اردو نثر کے فروغ میں قدیم تراجم قرآنی کا حصہ: 18ویں صدی میں‘‘ اور جناب عبدالرحمٰن عابد نے’’منیب الرحمٰن کی ترجمہ نگاری: جولیس سیزر، اینٹنی اور قلو پطرہ کے حوالے سے‘‘ جیسے مقالات پیش کیے۔

url1-1024x752 پانچ روزہ ادبی سفر کا اختتام، ’نئے پرانے چراغ‘ نے چھوڑے یادگار نقوش

مقالات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ تمام مقالہ نگاروں نے بڑی بے باکی، جرأت، اعتماد اور حوصلے کے ساتھ ایک بڑے ادبی پلیٹ فارم پر اپنے مقالات پیش کیے، جو قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے تمام مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بڑے پلیٹ فارم پر اپنے تحقیقی کام کو اعتماد کے ساتھ پیش کرنا خود ایک بڑی خوبی ہے۔انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیا کہ تحقیق کرتے وقت اپنے مطالعے کا دائرہ وسیع رکھیں۔ اگر کسی تخلیق کار یا ادبی صنف پر کام کر رہے ہوں تو صرف ایک صنف تک محدود نہ رہیں، بلکہ افسانہ، ناول، ڈراما، انشائیہ اور خاکہ سمیت متعلقہ اصناف اور ان کے اہم تخلیق کاروں کا بھی مطالعہ کریں، تاکہ ادب کے حوالے سے ان کی معلومات محدود نہ رہیں۔
پروفیسر خالد اشرف نے تمام مقالہ نگاروں کو وقت کی پابندی اور سنجیدگی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کسی سمینار یا ادبی پروگرام میں شرکت کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہے اور مقالہ پیش کرتے وقت بھی اپنے رویے میں سنجیدگی برقرار رکھنی چاہیے۔مشرقی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے اسکالرز کی زبان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کے بعض اسکالرز کی گفتگو میں ہندی زبان کے اثرات نمایاں ہیں، جو آج کے سمینار میں مقالہ خوانی کے دوران بھی محسوس کیے گئے۔ انہوں نے اسکالرز کو مشورہ دیا کہ وہ معیاری، شستہ اور فصیح اردو بولنے اور اپنے تلفظ کو درست کرنے پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ ان کی زبان علاقائی اثرات سے پاک اور ادبی معیار کے مطابق ہو۔
پروفیسر معین الدین جینابڑے نے مقالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مقالہ اور مضمون کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پیش کیے گئے بیشتر مقالات کو سن کر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ صحافتی تحریریں ہیں یا باقاعدہ تحقیقی مقالات۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقالہ نگاری میں اکیڈمک رائٹنگ کا ہونا نہایت ضروری ہے، جو آج کے بیشتر مقالات میں کم نظر آیا۔ اگرچہ اکیڈمک رائٹنگ عام تحریر کے مقابلے میں مختلف اور نسبتاً دشوار ہوتی ہے، لیکن تحقیقی کام کے لیے اس کا شعور اور اسلوب اختیار کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیا کہ وہ انگریزی زبان میں لکھے گئے معیاری تحقیقی مقالات کا مطالعہ کریں اور اپنے مقالات کا ان سے تقابلی جائزہ لیں، تاکہ تحقیقی اور اکیڈمک تحریر کے بنیادی تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
ظہرانے کے بعد آخری دن کا تخلیقی اجلاس دوپہر تین بجے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری، ڈاکٹر پرویز شہریار اور ڈاکٹر قمر الحسن نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر شاداب شمیم نے انجام دی۔ اجلاس میں محترمہ ڈاکٹر عذرا نقوی ، ڈاکٹر شمع افروز زیدی، ڈاکٹر مظفر حسین غزالی ، ڈاکٹر قدسیہ نصیر ، ڈاکٹر شاہد حبیب ، ڈاکٹر نگار عظیم ، ڈاکٹر سفینہ ، ڈاکٹر ثاقب فریدی، جناب ثروت عثمانی، جناب طٰہٰ نسیم، ڈاکٹر شاہنواز ہاشمی، ڈاکٹر عمران عاکف خان، جناب وسیع الرحمٰن عثمانی، محترمہ ترنم جہاں شبنم ، محترمہ نجمہ انعم، محترمہ حرا قمراور امجد حسین نے افسانے، انشائیے اور خاکے وغیرہ پیش کیے۔

url2-1024x707 پانچ روزہ ادبی سفر کا اختتام، ’نئے پرانے چراغ‘ نے چھوڑے یادگار نقوش

تخلیقی اجلاس میں پیش کی گئی تخلیقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر قمر الحسن نے کہا کہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے اس اجلاس میں جہاں سینئر قلم کاروں نے عمدہ تحقیقی مقالات پیش کیے، وہیں نئے قلم کاروں کی تحقیقات بھی قابلِ تحسین رہیں۔ انہوں نے مقالہ نگاروں کی پیشکش، تلفظ اور موضوعات کے انتخاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ پیش کیے گئے عناوین منفرد اور اچھوتے تھے۔ انہوں نے تمام مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کی۔
ڈاکٹر پرویز شہریار نے کہا کہ موجودہ دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عصری مسائل اور عصری حسیت کو نئے اسلوب اور جدید تقاضوں کے مطابق پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام نئی نسل کے قلم کار زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور بدلتے ہوئے ادبی و سماجی رجحانات سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کی جدید ٹیکنالوجی پر گرفت انہیں عصرِ حاضر کے تقاضوں اور قاری کی بدلتی ہوئی ذہنی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی تخلیقات میں موجودہ عہد کی ترجمانی زیادہ مؤثر انداز میں ہو سکتی ہے۔
 پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی کہانی، ناول یا شعر عصری حسیت کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی زبان سے ہو۔ ہر تخلیق کار اپنی تخلیق میں اپنے تجربات، مشاہدات اور جذبات کو پیش کرتا ہے، لیکن حقیقی فنکار وہی ہے جو اپنے فن میں اجنبیت اور انفرادیت کا عنصر پیدا کرے۔انہوں نے کہا کہ ایک معمولی سے معمولی چیز کو بھی ادب میں استعارے اور دیگر فنی وسائل کے ذریعے بامعنی اور مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
 محفلِ شعر و سخن کا انعقاد شام چھ بجے کیا گیا جس کی صدارت جناب طالب رامپوری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض جناب شعیب رضا فاطمی نے انجام دیے۔ اس محفل میں تقریباً 70شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

Share this content:

You May Have Missed